| | |

“Qur’anic Journey in Ramadan”

“Qur’anic Journey in Ramadan”

بیس روزہ رمضان انٹینسو کورس کا کامیاب اختتام

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی دینی و سماجی پروگراموں کی ایک طویل فہرست سامنے آ جاتی ہے۔ بسا اوقات اس کثرتِ سرگرمی کے درمیان رمضان کی اصل روح پس منظر میں چلی جاتی ہے اور عبادات بھی محض رسمی ادائیگی کی صورت اختیار کرنے لگتی ہیں۔ اسی احساس کے پیشِ نظر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، نئی دہلی 2020 سے ایک ایسے تعلیمی و تربیتی کورس کا تجربہ کر رہا ہے، جس کا مقصد رمضان کو اس کے اصل پیغام اور مقصد کے ساتھ سمجھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اسی تجربے کو وسیع تر حلقے تک پہنچانے کی غرض سے اس سال 20 روزہ آن لائن کورس کا انعقاد کیا گیا۔ اس بیس روزہ شارٹ ٹرم کورس کا آغاز 16 فروری کو چیئرمین اسلامی اکیڈمی ٹرسٹ ڈاکٹر حسن رضا اور ادارے کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر حسیب احمد کے ہاتھوں ہوا، جبکہ اس کا اختتام 8 مارچ کو ہوا۔ کورس کے اختتام کے بعد 14 مارچ کو شرکاء کے لیے امتحان کا بھی اہتمام کیا گیا۔

اس کورس کی ترتیب اس انداز سے رکھی گئی تھی کہ شرکاء نہ صرف رمضان المبارک کے فضائل و مسائل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں بلکہ قرآنِ مجید کے ساتھ ایک زندہ اور عملی تعلق بھی قائم کر سکیں۔ اسی مقصد کے تحت سورۃ البقرہ کی آیاتِ صوم (183 تا 187) کا تفصیلی مطالعہ کرایا گیا۔ ان آیات کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ روزے کے احکام کس حکمت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں اور رمضان المبارک کو عبادت و تربیت کے ایک جامع مہینے کے طور پر کس طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

فہمِ قرآن کے حوالے سے چودہ سو سالہ علمی روایت کا ایک مختصر تعارف بھی پیش کیا گیا۔ علمِ تفسیر کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے اردو کی چند نمایاں تفاسیر کا اجمالی ذکر کیا گیا۔ اسی ضمن میں سورۃ الحدید کا مطالعہ بھی کیا گیا، تاکہ شرکاء نہ صرف قرآن فہمی کی اس علمی روایت سے آشنا ہو سکیں بلکہ قرآنِ مجید کے ساتھ اپنا ذاتی اور زندہ تعلق بھی استوار کر سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ کتاب الصوم سے منتخب احادیث کا مطالعہ بھی کیا گیا تاکہ رسولِ اکرم ﷺ کے معمولاتِ رمضان کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ حضور ﷺ کی عبادت، تلاوتِ قرآن اور دیگر مشغولیات کے پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے شرکاء کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی گئی کہ رمضان دراصل ایک مکمل روحانی و اخلاقی تربیت کا مہینہ ہے۔

کورس میں فقہِ رمضان سے متعلق اہم مسائل پر بھی گفتگو کی گئی، جبکہ قرآنِ مجید کی درست تلاوت کے لیے تجوید کی عملی مشق بھی کرائی گئی۔ اس سلسلے میں حفاظِ کرام کی ایک ٹیم نے شرکاء کی رہنمائی کی، انہیں آخری سورتوں کی مشق کرائی گئی اور قرآنِ مجید کو صحیح انداز میں پڑھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

کورس کے ایک حصے میں روزہ اور رمضان سے متعلق اسلامی لٹریچر کا جائزہ بھی پیش کیا گیا، خصوصاً جدید اسلامی لٹریچر میں روزہ اور رمضان کے تصور کو کس انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ رمضان کے آغاز میں رمضان کی منصوبہ بندی پر گفتگو کی گئی، جبکہ دورانِ رمضان رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں پیش آنے والے اہم واقعات:جنگِ بدر اور فتحِ مکہ سے حاصل ہونے والے اسباق بھی بیان کیے گئے۔

اکیڈمی کے ذمہ داران کے مطابق اس کورس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ رمضان المبارک کو محض معمول کی سرگرمیوں کے درمیان گزر جانے والا مہینہ نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھا جائے جو انسان کو قرآن سے جوڑتا ہے، اس کے فکر و عمل کو سنوارتا ہے اور اسے اپنے رب کے قریب لے آتا ہے۔ یہی احساس اس پروگرام کی روح تھا، اور اسی کے ساتھ یہ بیس روزہ کورس اختتام کو پہنچا۔
اس کورس سے 1000 سے زائد طلبہ و طالبات نے استفادہ کیا۔ کورس کی کامیابی میں ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی، پروفیسر محمد اسحاق، ڈاکٹر محمود عاصم اور ڈاکٹر خان یاسر سمیت ادارے کے دیگر اساتذہ اور معاونین نے اہم کردار ادا کیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *